3 مئی 2012 - 19:30

ایم بی سی ٹی وی چینلز کا تعلق سعودی بادشاہ کے ارب پتی بھتیجے ولید بن طلال سے ہے جو سنہ 2002 سے دبئی کے میڈیا سٹی میں سرگرم عمل ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا کی رپورٹ کے مطابق سعودی خاندان ایک طرف سے اسلام کے نام پر خونخوار وہابیت کی ترویج میں مصروف ہے تو دوسری طرف سے عرب دنیا کے نوجوانوں کو بے حیائی میں دھکیلنے کے لئے وسیع سرمایہ کاری کررہا ہے جس کا ذریعہ ایم بی سی ٹیلی ویژن کے مختلف چینلز ہيں جن سے وہابی مفتی چشم پوشی کرتے ہیں کیونکہ ایم بی سی چینلز کا سربراہ سعودی بادشاہ کا بھتیجا ولید بن طلال ہے وہی جو بلاد الحرمین کے عوام کی تیل کی دولت سے 12 ارب ڈالر کا مالک بن چکا ہے اور مختلف زبانوں میں مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے ایم بی سی ٹی وی کے مختلف چینلز استعمال کررہا ہے۔سعودی مبلغ "سعد البریک" نے آل سعود کے بادشاہوں اور شہزادوں کے خلاف وہابی مفتیوں کی ستر سالہ خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہے کہ ایم بی سی نیٹ ورک عرب نوجوانوں کے لئے خطرناکترین منشیات سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ گوکہ حال ہی میں آل سعود نے ایک نام نہاد ثقافتی میلے میں فسق و فجور کے مظاہرے کئے تو بعض مفتیوں نے عبداللہ کے بیٹے المعتب کے خلاف اعتراض آمیز لہجے میں گلہ کیا تھا جنہیں آل سعود نے خاموش کرایا اور یہ بھی ممکن ہے کہ البریک ـ جو خود بھی فرقہ واریت پر یقین رکھتے ہیں اور حال ہی میں شام کے دہشت گردوں کی ہلاکت پر ان کے مگرمچھ کے آنسؤوں کا ایک کلپ بھی بڑا مشہور ہوچکا ہے ـ بہت جلد اپنے موقف سے مکر جائیں لیکن ان کا موقف کسی حد تک صحیح ہے گوکہ ایک فاسد نظام حکومت کے ہوتے ہوئے اس نظام حکومت کے کسی ایک کرتوت کو موضوع بنانے کا مفہوم یہ ہے کہ تنقید کرنے والا شخص اس نظام سے ناراض نہيں ہے حتی ممکن ہے کہ اس نے یہ اعتراض نظام حکومت کے تحفظ کے لئے کیا ہو۔انھوں نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا ہے: مجھ سے ایک نوجوان نے پوچھا کہ عرب نوجوانوں کے لئے سب سے زیادہ خطرناک منشیات جو انسان کو تباہ و برباد کردیتے ہیں، کونسے ہیں تو میں نے کہا: "ایم بی سی ٹی وی چینلز تمام مسلم اور عرب نوجوانوں کے لئے خطرناکترین اور تباہ کن ترین منشیات ہیں ۔ایم بی سی ٹی وی چینلز کا تعلق سعودی بادشاہ کے ارب پتی بھتیجے ولید بن طلال سے ہے جو سنہ 2002 سے دبئی کے میڈیا سٹی میں سرگرم عمل ہے۔ .......

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

بلادالحرمین کی عمومی صورت حال؛العوامیہ میں شیعہ رہائشی علاقوں پر سعودی افواج کی فائرنگ